Breaking News

کیا جنگ ہی تمام مسائل کا حل ہے

ایک سوال ہمیشہ زہن میں آتا کہ کیا جنگ ہی تمام مسائل کا حل ہے

کرہ ارض میں بسنے والے انسانوں کو جتنا نقصان وحشی درندوں نے نہیں پہنچایا. اس سے زیادہ نقصان انسان نے انسانوں کو کبھِی مذہب کے نام پر کبھی طاقت کا سکہ بٹھانے کے لئے. تو کبھی کسی ریاست کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کر کے.

جنگ مسلط کر دی دنیا کے بیشتر

ممالک میں بھی طاقتور کا کمزور قوم کو رنگ نسل، زبان اور مذہب کے حوالے سے دبایا کر رکھا جاتا ہے. جبکہ عالمی طور پر طاقتور ممالک کا چھوٹے ممالک کے وسائل قبضے یا اپنے برابر آنے. کا خوف کی صورت میں مسئلہ ایک جنگ کی صورت اختیار کر جاتا ہے. تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں.

تو ماضی میں اس کی کئی مثالیں

مل سکتی ہیں تاہم طاقتور اپنے حریف کو دبانے کے لئے ہمیشہ جائز و نا جائز حربے استعمال کرتا ہے. اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ہمیشہ سے طاقتور حکومت کا خاص کر ترقی پذیرممالک پر غلبہ یا کسی نا کسی طور حاکمیت رہی ہے.

چاہے وہ قرضہ کی صورت میں

کسی ملک کو اپنا غلام بنا لیں یا وہاں خانہ جنگی یا معیشت کو تباہ کر کے اپنی اجارہ داری قائم رکھیں. ایک جانب ہٹ دھرمی یا دونوں جانب سے جھکاوّ نا ہونا چھوٹی چھوٹی جھڑپ کے بعد ایک بڑی جنگ کی صورت میں نکل جاتا ہے. دونوں جانب سے طاقت کا بھرپور استعمال سے نا صرف ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قتل ہوتے ہیں.

وہیں دونوں ممالک کی معیشت

بری طرح متاثر ہوتی ہے بظاہر عالمی قوتیں روایتی انداز میں مذمتی بیانات توجاری کرتی ہیں. تاہم اندرون خانہ کسی بھی ملک کی مسلط کردہ جنگ سے انہیں نا صرف اپنے اسحلہ کی کھپت میں فائدہ ہوتا ہے. بلکہ وہ اس ملک کے تمام داخلی و خارجی معاملات پر براہ راست مسلط ہوکر وہاں کے بچے کچھے وسائل پر قبضہ کرکے.

اپنی حاکمیت اور طاقت کا سکہ جمانا چاہتے ہیں

تاریخ شاہد ہے کہ سب سے ذیادہ جنگیں. براعظم ایشیاء اور براعظم افریقہ میں لڑی گئی. تاہم دوسرے براعظوں میں بھی کئی ممالک ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہے جنگیں یا جھڑپیں کئی. سالوں تک جاری رہیں جن میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے وقت نے ثابت بھی کیا کہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے

یہ بھی پڑھیں: شـہر عـجوبہ کـی داسـتان

اور جنگ مسلط کرکے کسی بھی مسئلے

کا حل نہیں نکالا جا سکتا. لیکن دور جدید میں بھی جہاں ایک ملک کی جنگ کی صورت میں پوری دنیا میں اس کے خطرناک اثرات رونماء ہوتے ہیں. برپا کر دی جاتی ہے جس کا خمیازہ نا صرف اقوام کو بھگتنا پڑتا ہے.

بلکہ اس کے نتائج دور درس ہوتے ہیں حالیہ جنگوں اور اس کے ختم ہونے. کے باوجود کسی ملک نے سبق نہیں سیکھا کہ کسی مسئلے کا حل جنگ نہیں ہے. کیونکہ کسی ایک ملک میں جنگ مسلط کرنے کی صورت میں اتحادی ممالک بھی چار و ناچار حرکت میں آجاتے ہیں. جس کے باعث بہت سے ممالک کا بلاک بننا شروع ہوجاتا ہے.

اور پھر ایک دوسرے کی مسلط کردہ

جنگ میں دوسرے ممالک فوجی، دفاعی. انٹیلجنس انفارمیشن شئیرنگ کے ساتھ ساتھ اکثر براہ راست حرکت میں آجاتے ہیں. جس سے جنگ ایک خطے سے نکل کر دوسری سرزمین میں داخل ہوجاتی ہے. تاہم لاکھوں عظیم قتل و غارت اور معاشی طور پر. غیرمستحکم کرنے بعد بالاخر ان جنگوں کا نتیجہ باہمی معاہدہ ہی ہوتا ہے.

مگر عالمی قوتیں ان جنگوں سے نا صرف اربوں ڈالرز کا منافع حاصل کر لیتی ہے بلکہ دوسرے کمزور ملک پر اپنی طاقت کا سکہ جمانے کے لئے منفرد موقع فراہم ہوجاتا ہے۔

About admin

Check Also

خودکشی

گول مال!

گول مال! 🕊️ تحریر: فرح خیال ہم پاکستانیوں نے بھی عجیب قسمت پائی ہے۔۔ترقی کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.