0

زرا سوچیے

زرا سوچیے
تحریر۔فرزانہ صدیقی
الیکشن کی گہماگہمی اور سب ایک سے بڑھ کرایک نعرے اور دعوے کررہاہے
بڑے جلسے میٹنگز اجلاس دورے کیے جارہے ہیں
ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش میں ہر وہ بات کررہے ہیں جو وہ ہربار کرتے آۓ ہیں
نوکریاں ،روزگار، وغیرہ عوام کوسنہرے پنجرے سے آزاد کرواۓ جانے والے یہ خواب پورے کب ہونگے ؟
کراچی کی ؟بلکہ پورے ملک کی معاشی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے
مفلسی سے تنگ لوگ خودکشیاں کررہے ہیں
ڈکیتیاں عروج پرکیوں ہیں ؟
لوگوں کے مزاج میں چڑچڑا پن اور غصہ کیوں بھر گیاہے کبھی سوچا کسی صاحب ثروت نے ؟
کسی سیاستدان نے کسی ایک کے گھر پر جاکر راشن ڈلوایا یا نوکری کاروبار کروایا ؟کسی بیمار کارکن کے لیے وظیفہ مقرر کیا بلکہ جب بھی زراسا کچھ کیا تو فوراًاسکا فوٹ شوٹ کرکے اس کی عزت نفس کو پیروں تلے روند دیاگیا جو بھی آیا اقتدار میں یا عہدوں پر کس نے اپنے لوگوں کا بھلا کیا عام لوگ آج بھی اپنے روزمرہ کے اخراجات کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں کل بھی یہ ہی حال ہوگا بجلی کے بل پانی کی دستیابی سوٸ گیس کی بندش ٹوٹی سڑکیں گندی فٹ پاتھیں گلیاں محلے کل بھی ایسے ہی ہونگے الیکشن تک تو کچھ بہتری آۓ گی اسکے بعد ؟
چراغ لے کرڈھونڈنے سے بھی یہ لوگ دکھاٸ نہیں دینگے سلمانی ٹوپی انھیں غاٸب کردے گی اور ہم اپنے بچوں کی فیسوں کے لیے ماں باپ کی دواٸوں کے لیے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مارے مارے خوار ہورہے ہونگے
کام کرناہے اگر کچھ یاعام آدمی کے لیے جو مخلص ہونے کے دعوے کیے جارہے ہیں ان سے اتناعرض کرونگی کہ نکلیں اپنے علاقوں میں اور ڈھونڈے ایسے خوددار اور مجبور لوگ جو مفلس تو ہیں لیکن مانگتے ہوۓ شرماتے ہیں جوبے روزگار ہیں لیکن بندوق نہیں اٹھاتے بھوک سے بلکتے بچوں کو بہلاتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو مزدوری نہ ملنے پر گھرجانے سے کتراتے ہیں کہ کیا جواب دینگے گھر والوں کوجب جیب خالی گھرجاٸینگے
حال جانیے چہرے پہنچانیے مفلوک حال یتیموں مسکینوں بیواٶں کا اور بڑے دعووں کے برعکس عملی کام کیجیے تو قسم کھاکر کہونگی رب زوالجلال کی کہ آپ کو کبھی بھی الیکشن کمپین نہیں کرنے پڑے گی لوگوں سے ووٹ کے لیے درخواست نہیں کرنے پڑے گی لوگ آپ لوگوں کی ایک آوازپر دوڑے چلے آٸینگے ناں بندوق کے زور سے ناں وعدوں اور کھوکھلے نعروں سے دل جیتے جاتے ہیں ایمانداری اور عملدرآمد سے اور لوگوں کوبھی اب شعور آجاناچاہیے کہ ہمارے ووٹ کی قیمت اور اہمیت کیا ہے ؟ہمارے ووٹ سے انھیں اقتدار ملتا ہے سیٹیں ملتیں ہیں مراعات ملتی ہیں گاڑیاں بیش قیمت ملبوسات زیب تن کرتے ہیں بہترین غذا تناول کرتے ہیں منرل واٹر برانڈڈ کا استعمال کیاجاتاہے پرتعیش رہاٸش نصیب ہوتی ہے انکے اہل وعیال بیوی بچے بیرون ملک کی سکونت اختیار کرتے ہیں تعیلم حاصل کرتے ہیں ہمارے ہی ادا کیے گۓٹیکسوں سے یہ عیش کی زندگی گزارتے ہیں اور ہم عام لوگ انھیں یہ سب مہیا کرنے کے لیے ان کو یہاں تک پہنچانے کے لیے نعرے بازیاں اور تعریفوں میں زمین وآسمان ایک کردیتے ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں اپنے اپنے لیڈروں کے لیے معازاللہ گالی گفتار تک سے باز نہیں آتے
کبھی سوچا ہے یا تسلی سے دھیان سے اس بات پر توجہ مرکوز کی ہے کہ جس جس سیاسی پارٹی یا سیاستدان کے لیے آپ نے دشمنیاں لیں گالیاں لیں دیں اس نے اقتدار میں آکر یا صاحب سیٹ ہوکر آپ کے لیے کونسی مراعات بھیج دیں ؟
کونسے آپ کو پھولوں کے زیور پہنچادیے ؟
نہیں ایسا کچھ نہیں ملا آپکو بس خوش ہوگۓ کہ آپکی پارٹی جیت گئی یاآپکا لیڈر آگیا چاہے وہ مخلص ناں ہو آپکے لیے عوام کے لیے بس آگیایہ کافی ہے؟
ارے جاگیے آپ کہاں کھڑے ہیں؟
وہیں کھڑے ہیں آپ کواپناروزگار خود کماناہے اپنے بچوں کی اسی ملک میں شہر میں پرورش کرنی فیسیں بھرنی اپنا پیٹ کاٹ کر بڑھتے ہوۓ بجلی کے بل سوٸ گیس کے بل ادا کرنے ہیں بچیوں کی شادی کے لیے پیسہ جمع کرنا ہے یہ سب آپکو خود کرناہے کوٸ اور نہیں کریگا یاپھر مجبورا آپکو کسی خیراتی این جی او سے رابطہ کرناپڑے گا اس وقت خودادار انسان کی انا پر بڑی ضرب لگتی ہے جب وہ ناامید ہوکر کسی خیراتی ادارے جاتاہے اپنی بچیوں کی شادی کے لیے مدد مانگنے
اس وقت یہ سب کہاں ہوتے ہیں ؟لیڈران انھیں یہ سب مساٸل نظرآتے ہیں بھوک افلاس غربت کے مارے لوگ بےروزگاری سے تنگ نوجوان کون آتا ہے
سب ہی مساٸل عام آدمی خود حل کرتاہے کوٸ نہیں آتا
تو بہتر یہ ہے کہ شعور کوبیدار کیجیے کہ کون ہے جواب صحیع ہے اس ملک وملت کے لیے ؟
کون ہے جو عوام کے درمیان ہے ؟
اور زرا سوچیے گا ضرور کیونکہ آپکا ووٹ ہی آپکی طاقت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں