0

پر عزم کراچی۔

پر عزم کراچی۔

ازقلم: فرقان احمد سائر۔

تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو عرس البلاد شہر نے کئی قدرتی آفات کا سامنا کیا کئی آپریشن جھیلے۔ کتنی ہی بار دہشت گردی اور ٹارگیٹ کلنگ اور جبری گمشدگی کا سامنا کیا۔ کتنے ہی کراچی باسیوں کے مسیحا ثابت کرنے والے نام نہاد سیاسی جماعت کے رہنماوّں کی قلعی کھول دی۔ غرض یہ کہ شہر قائد کے امن اور یہاں کے بسنے والے مقامی آبادی پر جو ظلم و بربریت کا کا بازار گرم رکھا وہ ایک کھلی حقیقت ہے۔
کراچی کے ڈومیسائل یافتہ افراد کو نا صرف اچھی سرکاری نوکری سے محروم رکھا جاتا ہے بلکہ کاروبار کرنے والے تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ امن و امان اوربجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طویل بندش کا ہے جس کے باعث لاکھوں افراد معاش زندگی کا حصّول ممکن بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ شہر بھر میں دندتاتے اسٹریٹ کرمنلز جب چاہئے جدھر جائیں کسی کو بھی باآسانی لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ اسکول کالج جانے والی طالبات اور ورکنگ خواتین بھی محفوظ نہیں۔ جرائم پیشہ افراد بے خوفی سے چھلاوے کی طرح کہیں بھی واردات کر کے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ سینکڑوں واقعات میں ان ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے باوجود ان ملزمان کو گرفتار کرنا قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس 610 افراد سے زائد خاندان کے روشن چراغ گل ہوئے۔
دوسری جانب شہر کا انفراسٹریکچر تباہی کا شکار ہے کھلے مین ہولز نے کئی ماوّں سے ان کے لخت جگر چھین لئے۔ کچی آبادیوں اور شاپنگ سینٹرز میں آگ لگنے کے واقعات ۔
شہر قائد کو بلڈرز مافیاز کی جانب سے کنکریٹ کا جال بنانے والے شہر کے نظام چلانے والے افراد کی جانب سے کسی قسم کی روک تھام اور مثبت بنیادوں پر روک تھام نا کرنا اس بات کو مذید تقویت دیتا ہے کہ کراچی کے امن کو برباد کرنے اور معاشی مسائل کو پیدا کرنے میں مقتدر افراد کی جانب سے سوچی سمجھی سازش ہے۔

مندرجہ بالا حقائق سے یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ جس شہر میں چاروں صوبوں کی عکاسی کرنے والی قومیں بستی ہیں۔ جہاں تمام رنگ و نسل اور مذاہب کے لوگ موجود ہے۔ جسے ایک عرصے تک پاکستان کا دارلخلافہ ہونے کا شرف حاصل رہا۔ جہاں کے باشندوں نے قیام پاکستان کے لئے لاکھوں لوگوں کی قربانیاں دی۔ کتنوں کی ماوّں سے اس کے بیٹے چھن گئے کتنے ہی بچے یتیم ہوگئے کتنی ہی بہنوں سے ان کے سر کا سہاگ لوٹ لیا گیا۔ یہ تمام تر قربانیاں صرف اس وجہ سے دیں کہ وطن عزیز کو ایسا بے مثال خطہ بنائیں جس کا تصور بابائے قوم نے دیکھا تھا۔ جہاں ایک اسلامی ریاست ہو۔ جہاں بڑے چھوٹے۔ امیر غریب کے لئے یکساں قانون ہو۔ جہاں ریاست کی رٹ قائم و دائم رہے۔ تاہم کے سب سے بڑے شہر جہاں روزگار اور تعلیم کے یکساں مواقع میسر نہیں۔ جہاں
اظہار آزادی رائے کو سب سے بڑا جُرم سمجھا جائے جہاں۔ عوام کے بجائے خواص کی نمائندگی ہوتی ہو جہاں انفرااسٹریکچر کی تباہی اپنے عروج پر ہو جہاں لاقانونیت۔ غنڈہ گردی ،جہاں نجی اور سرکاری املاک پر غاصب ہونا۔ جہاں خلاف ضابطہ۔ غیرقانونی طور پر ناقص مٹیریل سے بلند و بالا عمارتوں کا جال بچھانا رہ گیا ہے وہاں شہریوں کی احساس محرومی میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔
عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے رپورٹ میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ
محکمہ پولیس سب سے کرپٹ ادارہ ہے کیونکہ کسی بھی غیرقانونی عمل کو قانونی بنانے کے لئے پولیس جیسے محکمہ میں چھپی کالی بھیڑیوں کی سرپرستی یا پشت پناہی کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہوتا۔ تمام تر صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے کراچی کو سیف سٹی پروجیکٹ اور کمیونیٹی سسٹم کی اشد ضرورت ہے بصورت دیگر۔
بقول شاعر:
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں