0

کراچی کا جوس

دنیا میں جس شہر سے سب سے زیادہ جوس نکالا جاتا ہے اس کا نام کراچی ہے۔ جس طرح ایک ماں اپنے بچے کو دودھ پلا کر جوان کرتی ہے۔
ٹیکس کے نام پر کراچی سے جوس نکال کر پورا ملک سیراب کیا جاتا ہے۔
یہاں کے عام شہریوں سے جائز اور ناجائز طریقے سے بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔
یہاں شہریوں کی موٹر سائیکلیں اٹھا کر من مانی قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔
یہاں پر ہیلمٹ اور جیب سے گٹکا ماوا کا پیکٹ نہ پہننے والوں کو خطرناک مجرم سمجھا جاتا ہے۔
یہاں کی موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں اسٹریٹ کرمنلز کو اس قدر پسند ہیں کہ ہر ماہ ہزاروں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں چوری ہو جاتی ہیں اور مختلف چوکیوں اور ناکےوں اور ناکےوں سے باآسانی دوسرے شہروں میں پہنچائی جاتی ہیں۔
گاڑیوں کی بات کی جائے تو یہاں کے شہریوں کے موبائل فون اسٹریٹ کرمنلز کو اتنے پیارے ہیں کہ وہ کی پیڈ موبائل کے لیے بھی 120 روپے کی گولی ضائع کردیتے ہیں، تاکہ اگلی بار کسی کا فون چھین لیا جائے تو کوئی مزاحمت نہ ہو۔ اس کا سامنا نہ کریں۔
جبکہ یہاں کی پولیس عوام کی جان و مال کی حفاظت، قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے سیاسی غلامی اور اشرافیہ کی حفاظت کو اپنا اصل فرض سمجھتی ہے۔
یہاں ہر سرکاری ادارہ خواہ وہ کسی شہری کے ڈومیسائل کا حصول ہو، شکتی کارڈ ہو، پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہو یا کسی بھی سرکاری ادارے میں اپنے جائز کام کے لیے دی گئی درخواست ہو، عوام کا رس نکالے بغیر کام نہیں ہوتا۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سرکاری ادارے میں رشوت کو ’’چائے پانی‘‘ کہا جاتا ہے جس کے بغیر کوئی کام کرنا جوئے کے برابر ہے۔ یہاں کی عدلیہ اتنی آزاد اور منصفانہ ہے کہ یہ دنیا کے 140 ممالک میں سے 129 کی درجہ بندی میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: منشیات سے پاک کراچی

کراچی کا جوس اتنا مشہور ہے کہ یہاں نہ تو اشالا کی کوئی فیکٹری ہے اور نہ ہی منشیات کی کاشت، لیکن کراچی کا جوس نکالنے کے لیے ہر گلی کوچے میں اشالا اور منشیات کی بھاری مقدار آسانی سے دستیاب ہے۔
کراچی کے جوس کی پورے ملک میں مقبولیت کی وجہ سے اہم سرکاری و نیم سرکاری عہدوں اور تمام سیاسی رہنماؤں کو یہاں امپورٹ اور مسلط کیا جاتا ہے تاکہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے پورے خاندان کے افراد بھی اس جوس کی لذت سے مستفید ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں