Breaking News

دولہا چال چلتی ترقّی

از قلم روبیہ مریم روبی

دولہا چال چلتی ترقّی

تعلیم اور پھولوں کا شہر بھمبر آزاد کشمیر اور اس کے گِردو نواح میں قدرت نے اپنی مخلوق کو بے پناہ خوبیوں اور وسائل سے نواز رکھا ہے۔اب بھمبر کی خوب صورتی کو ہی لے لیجیے۔ہر طرف سرسبز اُونچے کہسار،ٹھنڈا موسم (جو کبھی کبھار ہی گرمی میں بدلتا ہے۔)بہتے ہوئے چشمے،اور راوی سا منظر پیش کرنے والا ایک سدا بہار نالہ،جس کا ٹھنڈا پانی ،نالے کے قریب بسنے والے مولو مصلیوں کے بچوں کے ٹولوں کے چہرے ٹھنڈے رکھتا ہے۔اور غریبوں کا پیٹ بھی اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی مچھلی سے بھرتا ہے۔یہاں کے لوگ بڑے خوش اَخلاق اور بعضے خوشحال ہیں۔مگر اس جنت نظیر میں بہت سی کمیاں باقی ہیں۔اس کی تقدیر میں کچھ خَم رہ گئے ہیں۔بھمبر کی شاہرات ویسے تو اچھی بن گئیں مگر سنگل روڈ!یوں سمجھیے کسی اناڑی کے لیے موت کا کنواں ہے۔ذرا سی بے احتیاطی جان لے لیتی ہے۔سات آٹھ سال پہلے کی بات ہے۔جب موہڑہ سے بھمبر کی طرف جاتے ہوئے میرا ماموں زاد بھائی ایکسیڈینٹ کا شکار ہو کر اجل کو لبیک کہہ گیا۔اس طرح کے اور بہت سے واقعات اس سڑک پر ہو چکے ہیں۔جو کہ رپورٹ نہیں ہو سکے۔انتظامیہ کی نااہلیوں پر پردے ڈال ڈال کر یہاں تک نوبت آ پہنچی ہے کہ اب حادثات معمول بن گئے ہیں۔تقدیر کا لکھا اور قسمت کے ٹیڑھ پن کو کوس کوس کر لوگ چُپ ہو رہتے ہیں۔نہ کوئی تحریک اٹھتی ہے اور نہ ہی کوئی اس مُدعے پر بات کرنا پسند کرتا ہے۔برسالی،بڑھنگ،موہڑہ،کڈھالہ ان علاقوں کی سڑکیں ملحقہ ہیں۔اور سنگل بھی ہیں۔ان پر چلتے اور گاڑی چلاتے اب تو عوام خوف زدہ ہونے لگ پڑے ہیں۔نہ صرف ان علاقوں میں بلکہ جہاں جہاں بھی سنگل روڈ ہے۔وہاں وہاں عوام کو یہ مسائل درپیش ہیں۔کسی وزیر،مشیر یا بڑی پارٹی کا ان سڑکوں سے گزر نہیں ہوتا۔ورنہ شاید عوام کی بھی سنی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   عَالمِی غُربَت کے سِتَم
کشمیر سے گجرات کا سفر کر کے دیکھ لیں۔اپ کو نانی یاد نہ آ جائے تو کہیے گا۔گھمکول اور بوکن سے پیچھے سڑکوں کی حالت زار بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔جب سڑکیں بنانی شروع کی جاتی ہیں تو سال لگ جاتے ہیں۔سنگل روڈ کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ اکیلی دو طرفہ بھاری بھرکم ٹریفک کی وجہ سے کچھ ہی عرصے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔کچھ روز قبل میرا پکھووال سے گزر ہوا۔وہاں ایک ٹریکٹر بُری طرح سے حادثے کی نظر ہو چکا تھا۔چلتے چلتے سڑک سے اُتر گیا تھا۔کچھ دور ایک بھوسے کا بھرا ٹرک بھی اسی طرح بھیانک حادثے کا شکار ہوا۔کچھ ہی دور ایک ہائی ایس اور ٹرک کا زبردست ٹکراؤ ہوا۔یہ سب سنگل روڈ کے کمالات ہیں۔علاوہ ازیں پھلروان میں سنگل روڈ پر گاڑی کھائی میں گرنے کے اٹھاسی فیصد چانسسز موجود ہیں۔گجرات کی سڑکیں پچھلے دو سال سے زیرِ تعمیر ہیں۔جگہ جگہ پانی کے چھپڑ کھڑے ہیں۔گجرات شہر سے گزرتے ہوئے انسان عجیب و غریب صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے۔جس طرح دیواروں پر صاف ستھرے اشتہارات نفاست کے ساتھ لگے ہیں۔ اسی قدر نیچے سڑکوں پر گندگی بھی پھیلی ہوئی ہے۔کشمیر سے فیصل آباد جہاں بھی سفر کر لو۔تقریباً ہر جگہ انسٹرکشن کا کام تو ہوتا ہی رہتا ہے۔فیصل آباد،میرپور،بھمبر وغیرہ کی جتنی بھی سڑکوں پر میں نے سفر کیا ہے!کبھی ایسا نہیں دیکھا یا سُنا کہ کوئی شاہراہ مکمل طور پر بن گئی۔یا ٹھیک کر دی گئی۔ہمیشہ انسٹرکشن!بھئی یہ کیا بات ہوئی؟

About admin

Check Also

لاپتا شادی شدہ خاتون کا ڈراپ سین

کراچی کے علاقے گلشن حدید سے لاپتا شادی شدہ خاتون کا ڈراپ سین، خاتون مرضی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *