Breaking News

پاکستان کی پہلی کم عمر مزاح نگار خاتون

لسلام علیکم!
ماہانہ مجلّہ “کشمیری پھول انٹرنیشنل”کی بانی و اِنچارج
روبیہ مریم روبی آپ سے مخاطب ہے۔میں پاکستان کی پہلی کم عمر مزاح نگار خاتون ہوں۔شاعرہ،آرٹسٹ،صحافی اور مصنّفہ ہوں۔حال ہی میں میری کتاب “مزاح نامے”منظرِ عام پر آئی۔میرا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ایم۔فِل اسکالر ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کی نصابی کتابیں لکھتی ہوں۔جو مختلف اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔اب تک جماعت اوّل سے جماعت پنجم تک کتابیں لکھ چکی ہوں۔اردو ادب کے فروغ کے لیے ایک آن لائن رسالہ شروع کر رہی ہوں۔جس میں طنز و مزاح،عالمی امن پر ،احادیث کا انتخاب،تحقیقی کام ، ادبی تخلیقات ،بیوٹی ٹپس،سفر نامہ،قِسط وار ناول،سو لفظی کہانی،پچاس لفظی،کالم،اپنے علاقے کی اہم شخصیات کا انٹرویو، کہانی،افسانچے،افسانے،ڈائری،باوزن شاعری،اسلامی تحاریر اور اردو ادب کی کسی بھی صِنف میں آپ لکھ سکتے ہیں۔میں یہ کام ایک مقصد کے تحت کر رہی ہوں۔جب چھوٹی تھی تو میری لکھنے میں کوئی بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا۔مجھے چھپ چھپ کر لکھنا پڑتا تھا۔میرے گھر میں شاعری صرف علامہ اقبال کی پسند کی جاتی۔اور مجھے اقبال کی سمجھ نہیں آتی تھی۔مگر مجھے شاعری کرنی تھی۔میں نے میٹرک سے ایف۔اے کے دوران ایک دیوان لکھ لیا۔اس کے علاوہ بہت سی تحریریں لکھی تھیں۔مگر چھپوا نہیں سکتی تھی۔کوئی بھی میری تحریر نہیں لیتا تھا۔لیکن میں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔اردو ادب میں لکھتی ہی رہی۔ہوش سنبھالتے ہی لکھنے والی ایک چھوٹی سی لڑکی کی پہلی تحریر بی۔اے میں “کشمیری چائے”کے نام سے کالج کے رسالے میں پہلی بار شائع ہوئی۔اس سے پہلے محنت تو بہت کہ مگر اساتذہ اور والدین کی عدم توجہی کی وجہ احساسِ کمتری کا باعث بن گئی۔مجھے اس بات کا شدید احساس ہے کہ کوئی .اور کسی پسماندہ گاؤں کی روبیہ مریم حوصلہ افزائی کے لیے نہ ترس رہی ہو

یہ بھی پڑھیں: عوام اور ملک دشمن ایجنڈے

کہیں کوئی اور چھوٹی سی لکھاری بچی زمانے کی بے توجہی کا شکار نہ ہو رہی ہو۔اس لیے میں نے سوچا کہ بحیثیت طالبہ ایک آن لائن ہی سہی ایسا رسالہ شائع کروں گی۔جس میں دنیا بھر سے لکھنے والے شمیولیت اختیار کریں گے۔میں سب لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کروں گی۔کچھ رویے ایسے بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ وہ نئے لکھاریوں پر تنقید کرتے ہیں کہ ان کا کوئی معیار نہیں۔ان کی کتابیں چھپانے کے قابل ہیں۔آج تو ہر کوئی صاحبِ کتاب بنا ہوا ہے۔تو اس حوالے سے بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آج دنیا میں نوجوانوں میں ایسے ایسے عجیب وغریب قسم کے شوق پیدا ہو چکے ہیں کہ ان کے بارے میں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کریں کہ ہمارے علم و ادب سے جُڑے نوجوان کچھ آڑھے تِرچھے الفاظ کے ذریعے ہی سہی کم از کم علم کے ساتھ تو جُڑے ہیں۔کچھ تو مثبت کام کر رہے ہیں۔اس لیے اردو کی خدمت کرنے والوں کو عزت دیں۔ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے الحمد اللہ “کشمیری پھول اِنٹرنیشنل”کے نام سے ہم نے آن لائن رسالے کا آغاز کر دیا ہے۔میں نہیں چاہتی ہمارے لکھاری زمانے کی عدم توجہی کا شکار رہیں۔اس لیے آئیے آج ہی “کشمیری پھول اِنٹرنیشنل” میگزین کی مفت ممبر شِپ حاصل کریں۔آپ سب کے لیے نیک تمنائیں!سب سے التماس ہے کہ “کشمیری پھول”مجلّے کے لیے لکھیں۔اور زمانے کو بتا دیں کہ ہم اردو زُبان کی خدمت کر رہے ہیں۔کوئی چوری چکاری،نشہ یا وقت ضائع نہیں کر رہے۔آپ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔آپ ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔

About admin

Check Also

اپنی شخصیت سنواریں

عَالمِی غُربَت کے سِتَم

ازقلم روبیہ مریم روبی عَالمِی غُربَت کے سِتَم سُنے کوئی مرِی غربت کی داستاں مُجھ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *