Breaking News

عَالمِی غُربَت کے سِتَم

ازقلم روبیہ مریم روبی

عَالمِی غُربَت کے سِتَم

سُنے کوئی مرِی غربت کی داستاں مُجھ سے
بُھلایا قِصَّۂ پیمانِ اوّلیں میں نے

غُربت کیا ہے؟
جب کوئی انسان ،معاشرہ،گاوں،قصبَہ شہر یا ملک بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہوجاتا ہے تو غریب کہلاتا ہے۔غربت کی آٹھ بنیادی وجوہات میں “آبادی میں اضافہ” غربت کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔میں آبادی میں اضافے کو غربت کی وجہ ہرگز نہیں سمجھتی۔جتنے بھی انسانوں کا اس دنیا میں آنا لکھ دیا گیا ہے۔انہوں نے ہر صُورت دنیا میں آنا ہی آنا ہے۔جب حکمران نا اہل ہو جاتے ہیں تو آبادی کو غربت میں اضافے کا سبب گردانتے ہیں۔جب حکمران وڈیروں، امیروں اور دولت مند لوگوں کو چُھوٹ دینا شروع کر دیتے ہیں۔تب غربت جنم لیتی ہے۔اس وقت دنیا کی آبادی تقریباً سات ارب چالیس کروڑ تینتیس لاکھ ہے۔اس کُل آبادی کا ایک بڑا حصّہ چور اور ڈاکو ہے۔ایک بڑا حصّہ بھوک سے نڈھال ہے۔ایک بڑا حصّہ غربت اور حقوق کی جنگ سے لڑ رہا ہے۔اور ایک بڑا حصّہ دولت اور پیسے ہر سانپ بن کر بیٹھا ہوا ہے۔ٹالسٹائی نے کہا تھا،”غربت کی وجہ معاشرے میں چند لوگوں کو عطا کردہ ناجائز مراعات ہوتی ہیں۔ورنہ ہر بے روزگار شخص جائز طریقے سے اپنے جینے کا بندوبست کر سکتا ہے۔”مگر وڈیرے اور دولت مند لوگ ایسا نہیں ہونے دیتے۔اگر ایسا ہو گیا تو اُن کو سستے مزدور دستیاب نہیں ہوں گے۔ایسا اُن معاشروں میں ہوتا ہے۔ جن معاشروں سے انسانیت کا احساس ختم ہو چکا ہوتا ہے۔اور اب دنیا میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔غربت کی دوسری وجہ جنگ ہے۔میں اس سے اتفاق کرتی ہوں۔جب کوئی ملک جنگ لڑتا ہے۔تو وہ آسمان سے زمین پر آ جاتا ہے۔اس کے سب وسائل ضائع ہو جاتے ہیں۔ہر کسی کا مورال گِر چکا ہوتا ہے۔اگر دو ملکوں کی جنگ ہو تو ان دونوں میں سے کوئی ایک مُلْکْ سارا مال و دولت ہتھیا لیتا ہے۔لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا ہے۔اور غلاموں کی زندگی صفر سے شروع ہوتی ہے۔اس کے بعد ایسے غلام کبھی غلامی سے باہر نہیں آ سکتے۔یوں لوگ غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور غلاموں کی زندگی نسل در نسل غلامی میں کٹتی جاتی ہے۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ دنیا کے کچھ ممالک کے مسلمان حکمران بھی غلاموں کا احساس نہیں کرتے۔غربت کی تیسری وجہ “آسمانی آفات” ہیں۔مجھے اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی دقت نہیں کہ واقعی ہی آسمانی آفات غربت کا بہت بڑا سبب بنتی ہیں۔انسان آسمانی آفات پر ابھی مکمل طور پر قابو نہیں پا سکا۔مگر جب لوگوں میں اتفاق اور مِل جُل کر چلنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔تو میں اُمید کر سکتی ہوں کہ شاید انسان مُل جُل کر ان کا بھی کوئی حل سوچ لیں۔ قدرتی آفات میں تیز بارشیں،طوفان،آتِش فشاں پہاڑوں کا پھٹنا،برف کے تَودے گِرنا،عالمی وبائیں،سونامی،قحط،زلزلے،سیلاب اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی آئے دن تعمِیر و مرمَّت وغیرہ شامل ہے۔دنیا میں جب بھی اِنسانوں کو سونامِی،زلزلے اور سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جانِی اور مالی نقصان سے انسان ٹوٹ گیا ہے۔اس مشکل گھڑی میں انسان کو جس نے سنبھالا ہے،وہ “انسان” ہی ہے۔پس ثابت ہوا کہ غربت میں گِھرے ہوئے لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لیے انسان نے ہی کوئی نہ کوئی قدم اُٹھایا ہے۔انسانوں کی مدد کرنے کے لیے کبھی کوئی خلائی مخلوق نہیں آئی۔غربت کی چوتھی بڑی وجہ دنیا ،ملک ،شہر اور گاوں کی سطح پر انسان کو کوئی مستحکم معاشی نظام کا نہ مل سکنا ہے۔جب کوئی ایک اچھا نظام آتا ہے تو دوسرا اس کی مخالفت شروع کر دیتا ہے۔اگر کوئی سُود کے خاتمے کی بات کرتا ہے تو امیر اور دولت مند طبقہ اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔یہ طبقہ دولت کی بِنا پر چوں کہ طاقتور ہوتا ہے۔اس لیے اس کی بات سُنی جاتی ہے۔اور یوں دنیا میں لوگوں کا ایک طبقہ سود کی وجہ سے امیر سے امیر تر ہوتا ہے۔اور دوسرا طبقہ غریب سے غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ابنِ رشد نے دنیا کو انسانی خواہشات اور حدوں کا اِمتزاج قرار دِیا تھا۔لوگ خواہشات کی زندگی جی رہے ہیں۔لوگوں نے دنیا کو پہلی اور آخری زندگی تصور کر لیا ہے۔پورا دن سوشل مِیڈیا پر وقت ضائع کرتے ہیں۔مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ لوگوں کو وقت کے ضیاع کا احساس ہی نہیں ہو پا رہا۔لوگوں کو معلوم نہیں کہ سکِلز اس زمانے کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہیں۔مگر یہاں تو خواہشات کی کوئی حد ہی نہیں۔علم و ہُنر بہت کم لوگ سیکھتے ہیں۔اس کام میں صبح دوپہر شام کام جو کرنا پڑتا ہے۔لوگ تو خواہشات کا منبع بن چکے ہیں۔انسان سُستی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔لوگوں کو ابھی تک نا معلوم ہے کہ ہم نے اپنی اس زمین میں کیا اور کیسے بَونا ہے؟جب تک کوئی معاشرہ کوئی فن نہیں سیکھتا۔ وہ ترقی نہیں کرسکتا۔آج دنیا کو اپنے شعبے میں ایکسپرٹس کی ضرورت ہے۔لوگ وہی دسویں جماعت پاس کر رہے ہیں۔انہی کتابوں کے محور کے گرد گھوم رہے ہیں۔جو ان کے باپ دادا پڑھتے چلے آ رہے تھے۔اور نوکریاں کر رہے تھے۔کچھ لوگوں کو نامعلوم ہوتا ہے کہ وہ جس شعبے کو پڑھ رہے ہیں۔وہ کیا چِیز ہے؟وہ اس سے کیا کیا فوائد حاصل کر سکتا ہے۔اس میں اس کی ترقی کے کس قدر مواقع مُضمِر ہیں۔لوگ تو بس اپنے والدین،بڑوں،دوستوں اور جاننے والوں کی پسند کا مضمون پڑھ کر ان کو خوش کر رہے ہیں۔اور خود کو اُداس کر کے اس کو بہت بڑی نیکی سمجھ رہے ہیں۔یاد رکھیے آپ اپنا حق مار رہے ہیں۔نفسیاتی مسائل بھی انسانوں کی غربت کا سبب بن جاتے ہیں۔میرے خیال میں یہی سب سے بڑا غربت کا سبب ہے۔انسان اپنے آپ کو اچھی پوزِیشن پر سوچنے سے ہی قاصر ہے۔ایک غریب کی غربت یہ ہے کہ اس کو پورے دن میں بمشکل ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔مگر ایک وقت کا کھانا تو ملتا ہے نا۔ہاسٹل کی زندگی میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا تھا۔میں ایسے لوگوں کو اتنا زیادہ مجبور نہیں سمجھتی۔مجبور تو وہ لوگ ہیں جن کو کچھ بھی نہیں مل سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی طاقت پہچانیں۔

دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو گوبر کے ڈھیروں پر سے کیڑے مکوڑوں بھرا گلا سڑا کھانا کھانے پر مجبور ہیں۔جو مٹی چبانے پر مجبور ہیں۔جو جانوروں اور انسانوں کے پاخانے سے کھانا اُٹھا کر کھانے پر مجبُور ہیں۔جن کے پاس زندگی جینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔جو بس زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔میں ایسے لوگوں کو غربت کے نِچلے اور کم ترِین درجَے پر تصور کرتی ہوں۔جسمانی معذوری کو بھی غربت کی وجہ کہا جا سکتا ہے۔میں اس کو اس لیے وجۂ غربت تصور نہیں کرتی کہ دنیا میں معذور لوگوں کے بڑے بڑے نام ہیں۔جنہوں نے عالمی ریکارڈز بنائے۔غربت کی ساتویں بڑی وجہ کرنسی کی تخلیق و تقسیم سمجھی جاتی ہے۔جہاں تک کرنسی کی تخلیق کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میں کراچی ہوں

یہ تو ٹھیک ہے۔مگر کرنسی کی تقسیم میں بہت بڑی ناانصافی ہو رہی ہے۔کرنسی چند ہاتھوں میں پہنچتی ہے، اور وہیں کی ہو کر رہ جاتی ہے۔باقی پوری دُنیا منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔غُربت کی آٹھویں وجَہ یہ ہے کہ لوگوں کو بروقت وہ چیزیں نہیں مل رہیں، جو وہ لینا چاہتے ہیں۔بعد میں وہی چیز اُن کو چُگنے دَام میں مِل جاتی ہے۔یوں لوگ بہت زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔اور دولت ان کے پاس نہیں رہتی۔لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ایک سروے کے مُطابق دنیا کے تئیس ممالک میں ٢٠٠٠٠ افراد کے مُطابق غربت کی وجہ احساسِ کمتری ہے۔جس میں بے یقینی،معذوری نفسیاتی مسائل،طاقتور لوگوں کا تسلط ،ہنر سِکھانے والوں کی بھاری فیسز،کرنسی کی تقسیم اور جمُود،لوگوں کو چیزیں خریدنے میں دُشواری وغیرہ ہے۔عالمی وبائیں بھی غربت کا سبب بنتی ہیں۔مثلاً ایک خیراتِی اِدارے آکسفیم کے مُطابق کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات عالمی غربت میں تقریبا نِصف ارب کا اضافہ کر سکتے ہیں۔آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی اور کنگز کالج لندن کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے آکسفیم کا کہنا ہے کہ تیس سال میں پہلی بار عالمی سطح پر غربت میں اِضافہ ہوگا۔

About admin

Check Also

اپنی شخصیت سنواریں

پاکستان کی پہلی کم عمر مزاح نگار خاتون

لسلام علیکم! ماہانہ مجلّہ “کشمیری پھول انٹرنیشنل”کی بانی و اِنچارج روبیہ مریم روبی آپ سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *