Breaking News

لانگ مارچ کا تیسرا  دن

لانگ مارچ کا تیسرا  دن
حسب توقع آج کے لانگ مارچ کا انداز بھی گزشتہ روز کی طرح ہوا۔ مقررہ وقت پر لوگوں کا مناسب تعداد میں جمع نہ ہونا اس کی تاخیر کا باعث بنا اور جب تمام کوششوں سے کچھ تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے میں کامیاب ہوے تو اس کا آغاز ہوا اور  عمران خان نے چند مقامات پر خطاب کیا اگرچہ آج گوجرانوالہ تک جانے کا اصل پروگرام کا پہلے ہی منسوخ کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا تھا اور آج کامونکی تک کے سفر کا اعلان کیا گیا تھا مگر اس سے بھی پہلے ایک حادثہ کی وجہ سے آج کا مارچ سادہو کی میں ختم کر دیا گیا یہ حادثہ ایک خاتون صحافی کے عمران خان کے کنٹینر کے نیچے آکر جان بحق ہونے کا ہے یہ بہت ہی المناک حادثہ ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
یہ واقعہ اور اس قسم کے دیگر ماضی میں ہونے والے حادثات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام صحافیوں کی تنظیموں،  میڈیا،  ٹی وی چینلز اور دیگر متعلقہ ادارے مل کر ایک مکمل ضابطہ اخلاق اور پروٹوکول پر مبنی نظام واضح کریں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی مذبحہ خانوں بھرمار

آج کی اہم بات عمران خان کی طرف سے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کے اعلان کے جواب تھا گزشتہ روز وزیراعظم نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ عمران خان نے ایک مشترکہ کاروباری دوست کے ذریعے ایک ماہ پہلے مذاکرات کا پیغام بھیجا تھا جس کا ایجنڈا مشترکہ طور پر آرمی چیف کا تقرر اور الیکشن کے ٹائم ٹیبل کا اعلان تھا اور بتایا کہ انہوں نے عمران خان کی یہ تجاویز مسترد کر دیں اور جواب دیا کہ بات چیت صرف میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کے ایجنڈے پر ہی ہو سکتی ہے۔
آج عمران خان نے وزیراعظم کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مذاکرات کی کوئی پیش کش نہیں کی تھی۔
ان دو متضاد بیانات سے سے ایک کنفیوژن پیدا ہو گیا
ہے اور اس کی سچائی کا جانچنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے ماضی میں عمران خان نے شہباز شریف پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے اسے ایک بڑی رقم کی پیش کش کی تھی کہ وہ پاناما پپر کیس سے دستبردار ہونے کے لیے۔ اس پر شہباز شریف نے اس کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیجا تھا اور اس پر کورٹ میں کیس فائل بھی کیا تھا جو آج بھی کورٹ میں موجود ہے اور عمران خان نے اس کا کوئی جواب یا ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ اسلئے اب عمران خان کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ شہباز شریف کے اس دعوے کو چیلنج کرے اور شہباز شریف اس کو کورٹ میں ثابت کرے ۔ اسطرح سے ان دونوں کیسوں کی سماعت سے دونوں کے جھوٹ اور سچ کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اس پر عمل بھی کرتے ہیں یا ماضی کی طرح یو ٹرن لیتے ہوئے اپنے ان بیانوں کو سیاسی بیان کہہ کر چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

About admin

Check Also

اغواء برائے تاوان کا خطرناک سلسلہ

شہر قائد سے اغواء برائے تاوان کا خطرناک سلسلہ شروع ہوگیا۔  شاہ فیصل کالونی سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *