Breaking News

سی ٹی ڈی کے چیف راجہ عمر خطاب کا پیغام

سی ٹی ڈی کے چیف راجہ عمر خطاب کا پیغام
کاوّنٹر ٹریرزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے چیف راجہ عمر خطاب نے اپنا وڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ۔ کراچی سمیت پورے پاکستان میں میں ایک خصوصی قسم کا فراڈ چل رہا ہے جس میں کسی بھی شخص یا متعلقہ گھر والوں کو کہیں سے ایک فون آتا ہے کہ ہم فلاں تھانے سے بات کر رہے ہیں۔ اور آپ کا فلاں رشتہ دار جس کو ہم نے پکڑا ہوا ہے اور وہ کسی لڑکی کے ساتھ تھا یا اس سے منشیات برآمد ہوئی ہے۔۔ اور اس قدر خوفزدہ کر دیتے ہیں کہ متعلقہ شخص سے بات بھی کروا دیتے ہیں۔ جو لڑکا بات کر رہا ہوتا ہے وہ ایک آلہ کار ہوتا ہے مگر اتنا رو رہا ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ واقعی آپ کا کوئی رشتہ دار ہے وہ ڈرامہ بھی کرتا ہے کہ میرے والدین کو مت بتانا ورنہ میرے لئے مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔
اسی دوران اس کھیل کو کھیلنے والا شخص ہر ممکن طریقے سے ہراساں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بالاآخر متعلقہ شخص کو اس بات پر قائل کر لیتا ہے کہ آپ اتنے پیسے بھیج دیں تو ہم لڑکے کو چھوڑ دیں گے۔ اہلخانہ پریشانی کے عالم میں اس بچے سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے کہ آیا یہ سارا معاملہ حقیقت ہے کے کہ پلانٹڈ گیم کھیلا جا رہا ہے۔
کیونکہ آپ اسی پریشر میں ہوتے ہیں کہ جس سے بات کروائی ہے وہ ہی ہمارا رشتہ دار یا قریبی جاننے والا ہے۔

جب آپ فون کرنے والے کے کہنے پر مطلوبہ رقم کا بندوبست کر لیتے ہیں تو وہ آپ کو کسی بھی ایزی پیسہ کا اکاوّنٹ نمبر دیا جاتا ہے کہ اس پر پیسے ٹرانسفر کر دو۔ جس کے اہلخانہ وہ رقم ادا کر کے فراڈ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

عوام الناس میں شعور پیدا ہونا چاہئے کہ کسی بھی جعلی کال پر بھروسہ نا کریں ہوسکتا کہ ہے وہ آپ کو ہراساں کر کے رقوم بٹور ہے اگر کسی کو اس قسم کی کال آتی ہے تو بتائے گئے شخص سے پوری معلومات لیں اپنے حواس کو بحال رکھیں اور اپنے حلقہ احباب میں بتائیں تاکہ واقعہ کی اصل نوعیت سامنے آسکے۔اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والوں کو بھی مطلع کریں تاکہ ہم اور ہم مل کر جرائم سے پاک معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوسکیں۔

CTD Chief Raja Umar Khittab.

About admin

Check Also

چوری ڈکیتی

لوٹ مار اور چوری ڈکیتی کے واقعات

کراچی(کرائم رپورٹر/الماس خان ) شہر کے متعدد مقامات پر لوٹ مار اور چوری ڈکیتی کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.