Breaking News

لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں

لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں

تحریر: فرح خیال 🕊️

خودکشی

زندگی بہت خوبصورت چیز ہے ۔۔دنیا کے پہلے انسان نے جب اس زندگی اور اس کی رعنائیوں کو محسوس کیا تو ساتھ ہی عجیب بات ہوئی وہ اس خوبصورت کائنات کو پا کر بھی بے چین تھا۔۔عجیب کرب تھا تنہائی کا۔۔سب کچھ ہوتے ہوئے۔۔کچھ نہ ہونے کا احساس۔۔
خالق کائنات جو انسان کی شہہ رگ سے بھی نزدیک تر ہے اس نے جان لیا کہ میرا بندہ تنہائی کے کرب میں مبتلا ہے۔۔اسے اپنے لیے اپنے جیسے ہم جنس درکار ہیں تو رب کائنات نے اپنے نائب کے لیے یہ دنیا انسانوں سے بھر دی۔۔۔

موجودہ دنیا کی معلوم آبادی سات ارب سے زائد ہے پر انسان ازل سے جس احساس تنہائی کا شکار رہا ہے وہی جو آدم علیہ السلام سے اسےارث ہوئ ہے موجودہ زمانے کا انسان سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اسی تنہائی کا شکار ہے

یہ بھی پڑھیں: گول مال!

کیونکہ یہاں ہم جنس تو بہت ہیں پر ہم نفس نہیں کوئی ۔۔۔
انسانوں کی بھیڑ ہے پر مصنوعی اور مفاد پرستی کی دھند میں سب کچھ دھندلا سا گیا ہے
مادیت پرستی کی ایک ریس سی لگی ہے۔۔۔خوب سے خوب تر کی دھن نے انسانوں کو بے حس بنا دیا اب دوسروں کے مسئلے سننے، انھیں جاننے تک کا وقت نہیں رہا کسی کے بھی پاس۔۔نہ کسی کے رؤیہ پر توجہ دینے کا وقت رہا ہے کہ سامنے والا کیوں محدود ہو رہا ہے اس کی مسکراہٹ کہاں گئی ،کیا غم اس کو لاحق ہے۔۔

کیونکہ موجودہ انسان اتنا کمرشل ہے کہ اس کی بلا سے کسی کی مسکراہٹ کھو رہی ہے یا کوئی رو رہا ہے تو یہ اس کا مسئلہ نہیں۔۔
اجتماعیت کی بنیاد اب ایجنڈے پر ہے۔۔ اور انفرادی مسائل کسی ایجنڈے پر نہیں آتے اب۔۔
میرا یہ ماننا ہے کہ انسان خودکشی اس وقت کرتا ہے جب وہ دنیا کو فیس نہیں کر پا رہا ہوتا۔۔
اسے دنیاداری میں مات ہو رہی ہوتی ہے۔۔تبھی تو وہ اپنے آپ کو ناکام تصور کرتے ہوئے پاتال میں چھپنا چاہتا ہے اور موت ہی اسے اپنی جائے پناہ لگنے لگتی ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی طاقت پہچانیں۔

بہت سے مسائل بظاہر ہمارے لیے اتنے بڑے نہیں ہوتے ۔۔پر خودکشی کی کوشش کرنے والے کے لیے وہی زندگی موت کا مسئلہ ہوتے ہیں
تمامتر کیس اسٹڈیز سے میں نے جانا ہے کہ واحد چیز کو اس نفسانفسی کے دور میں انسان کو ناجائز موت سے بچا سکتی ہے وہ مذہبی تعلیمات اور خدا کی موجودگی کا احساس ہے۔۔جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے تو نا صرف ہمیں احساس تنہائی سے چھٹکارا ملتا ہے بلکہ خدا کی موجودگی کا احساس ہمیں اک خاص طرح کی قوت بخشتا ہے۔۔مذہبی تعلیمات جو کہ اسلام کے طفیل ہم تک پہنچی ہیں ان میں بھی ہمیں سمجھایا گیا ہے کہ یہاں کچھ بھی مستقل نہیں ۔۔ سو ۔ صبر کرو۔۔صبر بھی اک طاقت ہے پھر تنگی کے ساتھ ہی آسانی کا وعدہ بھی ہے اسلامی تعلیمات میں اور یہ آسانی ڈھونڈنے والے کو مل بھی جاتی ہے اور ساتھ ہی حرام موت سے بچنے کا حکم ہم کو بچا لیتا ہے خودکشی جیسے قبیح فعل سے۔۔
ہم اپنے بنانے والے سے جتنا قریب ہوتے جاتے ہیں اتنا ہی حرام موت سے دور ہو جاتے ہیں۔۔
دعا ہے کہ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی میں آسانیاں عطا کرے اور دوسروں کو آسانیاں دینے والا بنا دے آمین

فرح خیال 🕊️

About admin

Check Also

کشمیری معیشت پر ایک اور وَار

اپنی طاقت پہچانیں۔

اپنی طاقت پہچانیں۔ اگرچہ میں اپنی  فطرت کے مطابق یا یوں کہہ لیں اپنی تربیت …

Leave a Reply

Your email address will not be published.