Breaking News

مہنگائی کا طوفان اور معاشرتی مسائل۔

ازقلم: فرقان احمد سائر۔

ایک طرف جہاں پیٹرولیم کی ہنگائی مہنگائی مصنوعات پر ہوشربا اضافہ کیا گیا. جس  اشیائے خرد و نوش کی قیمتیں بھی ساتویں آسمان کی بلندی تک پہنچ گئی۔  ٹرانسپورٹ مافیاز کے من مانے کرائے  میں اضافے سے عوام کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی۔ گذشتہ تین سالوں سے بڑھتی ہوئی  بیروزگاری اور مہنگائی کے باعث جرائم کی. وارداتوں میں تسلسل سے اضافہ ہو رہا تھا. مذید ستم ظرفی کے پیٹرولیم کی مصنوعات کے ساتھ ساتھ بجلی کے نرخ بھی بڑھا دیئے گئے.

بھی پڑھیں: گھیرا تنگ ہوگیا

مہنگائی کا طوفان  

جس سے عوام کی رگوں کا خون جم کر رہ گیا معاشی تنگدستی کے شکار. مفلوک الحال شہری غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے۔ غربت اور مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کے ساتھ.  نا صرف چوری ڈکیتی سمیت دیگر جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے. اس کے ساتھ ساتھ  معاشرے میں فحاشی کے سینٹرز کو بھی پروان چڑھانے میں مدد گار ثابت ہوا۔ بچوں کی گمشدگی کی تعداد اور پیشہ ور بھکاریوں کا بھی بڑے شہروں میں ٹولے کے مخصوص گروہ نے اپنا قبضہ جما لیا.

جو پہلے بلاشبہ ایک ٹینڈر کے طرز پر مختلف گاوّں دیہاتوں سے خصوصی طور پر لائے جاتے ہیں. تاکہ مختلف ریستورانوں اور پارکوں پر تفریح کی غرض سے آنے والی. فیملی کو دیمک کی طرح چمٹ کر اپنا حصہ وصول کریں۔

اگر ملک کے سیاستدانوں کی طرف

دیکھیں تو وہ ایک دوسرے سے باہم دست گریباں اور اپنے حریف جماعتوں کے خلاف مقدمات درج کرانے. اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں سے آگے نہیں نکل پاتے۔ اگر قانون کی طرف دیکھیں تو سب کی متفقہ رائے یہ ہی ہوگی. کہ قانون صرف ظالم کو انصاف دینے کے لئے بنا ہے۔ جبکہ مذہبی جماعتوں کی طرف نظر دوڑائی

جائے تو ایک دوسرے کی

مساجد پر قبضہ کرنے اور دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے. کے سوا کچھ کام نہیں آتا ایسے میں غریب عوام جو پہلے ہی. کمسپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے اشرافیہ کے. بچکانہ فیصلوں کے باعث مذید دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ 

 بلاشبہ مختلف معاشرتی برائیوں کا سب سے بڑا سبب بیروزگاری ، تعلیم اور نا انصافی ہے۔ حصول انصاف کا نا ملنا  کسی بھی شخص یا جماعت کو باغی بنا کر معاشرتی برائیوں کے اسباب پیدا کرتی ہے۔ یہ ایسے عوامل ہے جس سے کوئی بھی باشعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اگر بلاتفریق قوم رنگ و نسل سب کو روزگار کو یکساں مواقع میسر ہوں. تو معاشرے سے بہت سی خرابیاں بندوق کی نوک کے بجائے ازخود دم توڑ دیں گی۔

ہفتہ کو میڈیا سے مہنگائی کی گفتگو کرتے ہوئے،

انہوں نے کہا کہ غیر واضح دوسرا آ گیا ہے اور افراد کو اکثریت کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہوگی۔ “افراد کو اپنے گھروں سے نکلنا چاہیے اور اپنے گھروں کو پھیلنے سے بچانا چاہیے۔” اس نے معاشرے کے تمام شعبوں بشمول کارکنان، کھیتی باڑی کرنے والوں اور زیر تعلیم افراد کو واک میں حصہ لینے کا خیرمقدم کیا۔ “یہ کپتان کے ساتھ ساتھ کشمیر بیچنے والوں کو ٹھکانے لگانے کا راستہ ہے،” اس نے بند کیا۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.