Breaking News

ایس ایس پی کا تفتیش کے بارے میں انٹرویو

ایس ایس پی انویسٹیگیشن آصف بھگیوسے تفصیلی انٹریو لیا گیا جو قارئین کے پیش خدمت ہے

سی آئی ڈی نیوز: آپ کا کیا نام ہے اور جائے پیدائش کدھر کی ہے
ج: میرا نام پورا نام آصف احمد بھگیو ہے اورمیری پیدائش ٘کوٹری ضلع کی ہے. ابتدائی تعلیم بھی کوٹری سے حاصل کی

سی آئی ڈی نیوز: آپ نے پولیس فورس کب جوائن کی اور پولیس میں آنے کا کیا مقصد تھا۔
ج:  مجھے شروع سے ہی پولیس کا محکمہ اچھا لگتا تھا میں سمجھتا تھا. کہ پولیس فورس جوائن کر کے عوام کی خدمت کر سکتا ہوں۔

سی آئی ڈی نیوز:  سی ایس ایس کس سن میں کیا۔
ج:  میں نے 2008 میں سی ایس ایس کا امتحان دیا. اور الحمداللہ پاس بھی ہوگیا۔

ایس ایس پی کا تفتیش کے بارے میں انٹرویو

سی آئی ڈی نیوز: پہلی تعیناتی کہاں رہی اور کہاں کہاں رہے۔
ج: میری پہلی تعیناتی ضلع راجن پور میں بطور ASP ہوئی. اس کے بعد ملتان میں SP کے عہدے میں تقریبآ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہا۔ پھر کراچی میں SP سائٹ اپنی خدمات انجام دینے کا موقع ملا. اور ابھی SSP انویسٹی گیشن سٹی میں تعینات ہوا ہوں.

سی آئی ڈی نیوز:  آپ کی تعیناتی میٹاری میں بھی رہی مٹیاری میں. آپ نے کون سے اہم کام سر انجام دیئے وہاں کتنا عرصہ رہے
ج:  میرے آنے سے قبل میٹاری میں جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ تھا. جہاں
یہاں ڈکیتی. اور گاڑی چوری کی وارداتیں بہت عام ہوچکی تھی. میری پہلی ترجیح ان ٹارگیٹڈ جرائم کا سدباب کرنا تھا. جس پر بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے ان جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کیا میں نے بہت سے. گینگ کو پکڑ کر ان کے خلاف مقدمات درج کئے میں وہاں تقریبآ پونے تین سال اپنے فرائض انجام دیتا رہا ۔ اور ابھی تک وہاں موٹرسائیکل اور گاڑی چوری کے ساتھ ساتھ ڈکیتی کی واردتوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

.سی آئی ڈی نیوز:  ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم کے کیا اسباب ہیں

ج: دیکھیں اس کی سب سے بڑی وجہ بیروزگاری اور معاشی مسائل ہیں ساتھ ساتھ کچھ عناصر ایسے ہوتے ہیں. جو مجرمانہ ذہن کے حامل ہوتے ہیں تاہم بیروزگاری اور غربت کسی کو بھی جرم کی طرف راغب کرنے اہم ذریعہ ہے

سی آئی ڈی نیوز:  یہاں پوسٹنگ ہوئے کتنا عرصہ ہوگیا۔
ج:  ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی پوسٹنگ لئے ہوئے تقریبآ 2 ماہ ہو چکے ہیں۔

سی آئی ڈی نیوز: اس دوران آپ نے کون سے اہم کام سرانجام دیئے۔

ج:: اس دو ماہ کے قلیل عرصے میں عادی جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے بہت سے آپریشن کئے. ان ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے جیل بھیجا، کافی چالان پیش کئے۔

سی آئی ڈی نیوز:  ذیادہ تر کس حوالے سے مقدمات درج ہوتے ہیں۔
ج:  یہاں پر زیادہ تر کاروباری معاملات اور ان کے مسائل کے حوالے سے مقدمات درج ہوتے ہیں. زیادہ تر علاقے کھارادر ، اور میٹھادر ہیں۔

سی آئی ڈی نیوز: گٹکا ماوا اورع منشیات کی روک تھام کے حوالے سے کوئی اقدامات کئے۔

ج: منشیات اور گٹکا ماوا کے کیسز بھی ہمارے پاس آتے ہیں جن کے خلاف بھرپور کاروائیاں کی جاتیں ہے اور مقدمات درج کر کے جیل کسٹڈی کر دی جاتی ہے۔

.سی آئی ڈی نیوز:  قیام امن کی کوشش میں رینجرز کا بڑا کردار ہے اس بارے میں کچھ بتائیں

ج:  سندھ رینجرز بھی پولیس کا حصہ ہے اور ہمیں جب بھی رینجرز کی ضرورت پڑتی ہے. تو ہماری مدد کے لئے ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔ اورمعلومات شیئرنگ میں دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ نا صرف اچھے. تعلقات قائم ہیں بلکہ ہم مل کر آپریشن بھی کرتے ہیں۔

سی آئی ڈی نیوز:  پولیس شہداء کے حوالے سے؟

ج:  پولیس شہداء پولیس ڈیپارٹمنٹ کے لئے فخر ہیں وہ ہماری آنکھ کا تارا ہیں. مارد وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے شہداء کو کبھی نہیں بھول سکتے کیونکہ شہید کبھِی بھی نہیں مرتا. وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں. اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم ان کے اہلخانہ سے بھِی رابطے میں رہتے ہیں 4 اگست کو ہر سال شہداء کے حوالے سے ایک بڑا دن منایا جاتا ہے. جس میں شہداء پولیس کی فیملی شرکت کرتی ہے جہاں انہیں گفٹ اور کیش بھی دیا جاتا ہے۔

سی آئی ڈی نیوز:  اپنی زندگی کا ایسا واقعہ جسے کبھی فراموش نا کر سکیں۔

ج:  جی ہاں ایک واقعہ ایسا کہ 2019 میں جب میری پوسٹنگ مٹیاری میں تھی تو دو لاشیں درخت سے بندھی ہوئی ملی. جسے ہی اطلاع ملی تو بروقت موقع پر پہنچا جسے دیکھ کر انتہائی غمزدہ ہوا کہ ایسے. ظالم لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں کہ کس قدر بے دردی سے. اور بے رحمی سے قتل کر کے لاش کو درخت پر لٹکا دیا۔ جب اس اہم معاملے میں تفتیش کی تو دوہرے قتل کی واردات کے پیچھے ان کا سگا. چچا نکلا جس پر مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا. یہ ایسا واقعہ ہے جسے زندگی بھر نہیں بھلا سکتا۔

?سی آئی ڈی نیوز:  حکومت کی جانب سے کوئی اعزاز یا تمغہ ملا

ج:  فی الحال حکومت کی جانب سے کوئی اعزازی تمغہ نہیں ملا البتہ ایڈیشنل آئی. جی صاحب کی جانب سے انعام اور شاباشی مل جاتی ہے جس میں بہت خوش ہوں اور اپنا کام پوری لگن اور ایمانداری سے کر رہا ہوں

?سی آئی ڈی نیوز:  افسران بالا سے کیا کہنا چاہیں گے

ج:  ہمارے بالا افسران بہت اچھے ہیں ہر معاملے میں بہت ساتھ دیتے ہیں ہم ایک ٹیم ورک کی طرح کام کرتے ہیں میری دعا ہے. کہ میرے بالا افسران خوش رہیں اور اللہ تعالی ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے. اور ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں میں قائم رہے۔

سی آئی ڈی نیوز:  چونکہ آپ کی تعیناتی ڈسٹرکٹ سٹی

میں بطور ایس ایس پی انویسٹی گیشن ہے آپ اپنی حدود میں آنے والے. شہریوں اور اپنے محکمے کے جونیئر کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے۔

ج:  میں عوام سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پولیس کو اپنا معاون سمجھیں کسی بھِی غیرقانونی سرگرمیوں کی اطلاع. فی الفور پولیس کو دے کر ایک اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیں ہم اور آپ مل کر ہی شہر سے. جرائم کا خاتمہ کرسکتے ہیں. اس کے علاوہ اپنے جونیئرز کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ عوام اور مدعی کے ساتھ محبت اور اخلاق سے پیش آئیں تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد برقرار رہے۔

یہ بھی پڑھیں:گھیرا تنگ ہوگی۔

سی آئی ڈی نیوز:  میڈیا کے حوالے سے کچھ بتائیں گے۔

ج:  کراچی کا میڈیا بہت اچھا ہے میڈیا والوں سے میرے دیرینہ مراسم ہیں جب بھی کوئی کانفرنس ہوتی ہے تو میں میڈیا پرسن کو سب سے پہلے دعوت دیتا ہوں۔

سی آئی ڈی نیوز کراچی میں بہت اچھا کام کر رہا ہے خاص کر بہت سے ایسے جرائم ہیں. جن کی انفارمیشن ہمیں سی آئی ڈی نیوز سے ملی اس پر ہم نے بروقت ایکشن لیا. اور اس معاملے پر پوری انکوائری کر کے ملزمان کے خلاف کارروائی کر کے. ان کو جیل بھیجا۔ سب سے اہم بات کہ سی آئی ڈی نیوز کی کرائم کے حوالے سے بہت مضبوط ٹیم ہے کبھی ایسا نہیں ہوا. کہ سی آئی ڈی نیوز کی جانب سے کوئی غلط خبر اور بے بنیاد خبر شائع یا مطلع کی گئی ہوں۔

سی آئی ڈی نیوز:  دوسرے میڈیا والوں سے کیا کہنا چاہیں گے۔

ج:  دیکھیں جیسا کے میں عرض کر چکا ہوں کہ کراچی میں صحافی کا بہت بڑا رول ہے ان کی دی گئی معلومات کی روشنی میں ہم انکوائری کروا کر ملزمان تک پہنچتے ہیں ساتھ ساتھ میں میڈیا والوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنے شعبہ میں کسی مفاد پرست یا مجرمانہ ذہینت کے حامل کو جگہ نا دیں تاکہ میڈیا کا جو اچھا امیج ہے وہ برقرار رہے

About admin

Check Also

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔ محمکہ پولیس میں کے ڈیپارٹمنٹ میں ابھی بھی ایسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.