Breaking News

پاک کالونی میں ماوا کی منڈی

کراچی تھانہ پاک کالونی انڈین مین پوری کے مرکز کے ساتھ ساتھ گٹکا و ماوا کی منڈی میں تبدیل، ڈسٹرکٹ کیماڑی پاک کالونی کے مختلف میں علاقوں میں گٹکا ماوا کی منڈی لگ گئی،

ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے

مطابق تھانہ پاک کالونی کی حدود میں کھلے عام گٹکا و ماوا اور تھانے کی ہی حدود میں تیار کی جانے والی. انڈین مین پوری بھی کھلے عام مختلف مقامات پر فروخت ہونے لگی ہے. تھانہ پاک کالونی کی حدود آصف کالونی زبیر کالونی

یہ بھی پڑھیں: جرائم کے اعداد شمار

وارڈحسرت موہانی بڑا بورڈ

ولایت آباد، گبول بڑا بورڈ سمیت دیگر علاقوں میں گٹکا ماوا کھلے عام فروخت ہورہا ہے اپنے. معاوضے کے بڑھانے کے لئے پولیس. اہلکار چند ایک گٹکا ماوا فروش کو پکڑکر یا ان کی خبریں چلوا کر ہفتہ وار ریٹ بڑھا دیتے ہیں

جس کے باعث خریدار کو

منہہ مانگے دام دے کر ماوا کی پڑیا فروخت کی جاتی ہے۔ ذرائع سے حاصل ہونے والی. اطلاعات کے مطابق تھانہ پاک کالونی میں قائم مختلف فیکٹریوں میں بھاری تعداد میں چھالیہ چھپا دی جاتی ہے.

جسے بعد ازاں مختلف موٹرسائیکلوں

اور رکشے کی مدد سے مخصوص مقامات پر پہنچایا جاتا ہے اس تمام غیرقانونی سرگرمیوں میں تھانہ پاک کالونی کے ایس ایچ او سمیت کئی. اہلکار ملوث ہیں۔ واضع رہے پاک کالونی سمیت دیگر علاقوں میں گٹکے کی تیاری کا عمل جاری ہے.

جہاں پر پھپھوند لگی ہوئی

چھالیہ کو بڑے بڑے ڈرم اور کڑھائی میں چونا اور کتھا ملا کر چھوڑ دیا جاتا ہے. اور بعدازاں پلاسٹک کی چھوٹی تھیلیاں. اور پوڑیوں کی شکل میں پیک کر کے. تھلوں اور کارٹن میں بھر کر سوزوکی پک اپ. اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے شہر بھر میں سپلائی کر دیا جاتا ہے

، ذرائع کا کہنا ہے مضر صحت

گٹکا ، ماوا ، مین پوری اور انڈین گٹکے شہر بھر میں بس اسٹاپ کے قریب قائم پان کے کیبنوں ، مین شاہراہوں ، اندرون گلیوں. اورمضافاتی علاقوں و کچی آبادیوں میں قائم چھوٹی دکانوں اور کیبنوں پر پہنچا دیا جاتا ہے۔

تھانہ پاک کالونی کی حدود میں اتنے بڑے پیمانے پر گٹکا اور ماوا کی سپلائی جاری ہے. جس کی روک تھام میں ایس ایچ او پاک کالونی کی پرسرار خاموشی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔

About admin

Check Also

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔ محمکہ پولیس میں کے ڈیپارٹمنٹ میں ابھی بھی ایسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.