Breaking News

فرانزک کیسے کی جاتی ہے۔ 

فرانزک کیسے کی جاتی ہے۔ 
یہ تو ہم سب نے کئی بار سنا ہوگا کہ کسی بڑے کیس میں موبائل فون یا لیب ٹاپ وغیرہ فرانزک کروائی جاتی ہے. اسی طرح جب کسی معاملے میں حساس وڈیوز یا کسی کی جعلی وڈیو بنا کر وائرل کر دی جاتی ہے. تو اس صورت میں وڈیو فرانزک ہوتی ہے۔

جیسا کہ چند دھائیوں قبل اچھی  وڈیو ایڈیٹنگ

صرف اور صرف ہالی ووڈ کی فلموں میں کی جاتی تھی جہاں فکشن اور سائنس اور اسی طرح کی دوسری فلمیں یا وڈیو ایڈیٹ کی جاتیں تھی. تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں حضرت انسان نے ترقی کی وہاں اسمارٹ فون بھی ترقی کرتا گیا. وقت کے ساتھ ساتھ موبائل فون اور کمپوٹر میں ایسی ایپلییکشن اور سافٹ ویئر بھی بھی آنے لگے.  جس سے کسی بھی فوٹیج یا وڈیو کو باآسانی ایڈیٹ کر دیا جاتا ہے. جس سے گمان یہ ہی ہوتا ہے. کہ واقعی یہ حقیقت پر مبنی وڈیو ہے تاہم زیادہ تر یہ جنسی معاملات پر کئے جاتے ہیں. تاکہ کسی شخص کو بلیک میل کر کے.

اپنے مذموم مقاصد پورے کئے جاسکیں

جیسے جیسے یہ ایپ یا سوفٹ ویئر اپڈیٹ ہوتے جا رہے ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے. بھی پریشانی مذید بڑھتی جا رہی ہے. اور وڈیو فرانزک کرنا بھی تھوڑا دشوار ہوگیا ہے. تاہم دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگی اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے. اب بھی باآسانی تصویر یا وڈیو فرانزک کی جاسکتی ہے.

جس میں سب سے پہلے کسی

تصویر یا وڈیو کو فزیکلی یعنی آنکھ کے ذریعے دیکھا جاتا ہے. کہ اس وڈیو میں کوئی عجیب سی چیز نظر تو نہیں آ رہی. جس سے یہ شائبہ ہو کے یہ وڈیو جعلی ہے اور ایڈیٹنگ کی گئی ہو. دوسری صورت میں اس وڈیو کو ایک لینس کی مدد سے دیکھا جاتا ہے. یہ طریقہ کار بہت آسان اور سادہ ہے.

کیونکہ کسی فوٹیج یا وڈیو میں

جب بھِی ایڈیٹنگ کی جاتی ہے وہاں کے پکسل دوسری وڈیو یا تصویر سے پوری طرح میچ نہیں کر رہے ہوتے. اور اس طریقہ کار کی مدد سے باآسانی پتا لگا لیا جاتا ہے کہ یہ تصویر یا وڈیو اصلی ہے. یا نقلی اسی لئے اس کا استعال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔
ایک اور صورت میں اس تصویر یا وڈیو کو کمپیوٹر سے جانچا جاتا ہے. کیونکہ فرانزک کرنے والے ایکسپرٹ ے پاس کمپیوٹر میں ایسے ایلگورتھم موجود ہوتے ہیں. جو تمام پکسلز کو جانچتے ہیں. اور دیکھتے ہیں کہ کون سا پکلسز کس جگہ پر ہے.

اور جس پکسلز میں ان کو واضع فرق نظر آتا ہے

وہاں پر کوڈ بن جاتا ہے کہ یہاں فرق ہے تو اس سے معلوم چل جاتا ہے. کہ یہ تصویر یا وڈیو کو باقاعدہ ایڈیٹ کیا گیا ہے. ایک اورٹیکنیک میں کسی بھی فوٹِیج یا وڈیو کے کو ایڈیٹنگ کے بعد دیکھا جاتا ہے. کہ اس فوٹو یا وڈیو میں کون سا کلر استعمال ہوا ہے.
اور کسی فوٹو کو کسی بھی سافٹ ویئر سے ایڈیٹ کر کے تبدیلی کی گئی ہے تو ایلگورتھم کی مدد سے پتا لگا لیا جاتا ہے. کہ کون سے سافٹ ویئر کی مدد سے رنگ کو ملا کر کسی فوٹو میں تبدیلیاں کی گئی ہے۔

تاہم وڈیو فرانزک میں سائنس اور فزکس کا بھی

استعمال کیا جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کسی بھی تصویر یا وڈیو میں لائٹ کی ڈائریکشن ہیں وہ کس طرف سے پڑ رہی ہیں۔ کیونکہ حصول شدہ وڈیو کے دو ہی ذرائع ہوتے ہیں یا تو وہ فوٹیج سی سی ٹی وی ریکارڈنگ ہوتی ہیں. یا پھر کسی موبائل فون کی ریکارڈنگ ہوتی ہیں اور ہر قسم کا موبائل فون یا کیمرا اپنے.

ندر ایک فٹ پرنٹ چھوڑ دیتا ہے ٹیکنیکل اسٹاف

دیکھتا ہے کہ کسی تصویر یا وڈیو ایڈیٹ شدہ تو نہیں ہے اسی طرح موبائل فون فرانزک میں سب سے پہلے کسی. بھی مجرم کا موبائل فون ضبط کر لیا جاتا ہے اس کا تمام کا تمام حذف شدہ ڈیٹا کو موبائل فون کی گیلری سے ہو  چاہے. واٹس ایپ کا ہو، ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے گئے. پیغامات کا ہو یا موبائل فون سے کوئی بھی ڈلیٹ کیا گیا ایپ ہو۔

ساتھ ہی ساتھ موبائل فون فرانزک میں فیس بک، ٹوئیٹر یا کسی اور سوشل میڈیا. حتی کے براوّسنگ ڈیٹا اور یوٹیوب کی واچ اور سرچ کردہ ہسٹری بھی نکال لی جاتیں ہیں. پہلے اسٹیپ میں ان تمام ڈیٹا کو یکجا کر کے فولڈر بنا لئے جاتے ہیں. اس کے بعد ڈلیٹ شدہ تصاویر۔ وڈیوز اور ٹیکسٹ ،

اور بھیجے گئے پیغامات کو شواہد حاصل کرنے کے لئے جانچا جاتا ہے تاکہ کسی بھی شخص کے خلاف ٹھوس بنیادوں کی روشنی میں جرائم کو سامنے لایا جاسکے۔

About admin

Check Also

خودکشی

گول مال!

گول مال! 🕊️ تحریر: فرح خیال ہم پاکستانیوں نے بھی عجیب قسمت پائی ہے۔۔ترقی کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.