Breaking News

جرائم کے اعداد و شمار

شہر قائد میں گذشتہ ماہ ہونے والے جرائم کے اعداد و شمار سامنے آگئے۔

 کـراچی میں گذشتہ ماہ شہریوں سے 15 گاڑیاں چھین لی گئی جبکہ 171 کی تعداد میں شہر بھر سے گاڑیاں چوری کر لی گئیں۔

 اسی طرح صرف 28 دنوں موٹرسائیکل موٹرسائیکل چھینے کی تعداد 405 رہی جبکہ شہرقائد میں 4081 کی تعداد میں موٹرسائیکلیں چوری کر لی گئی جس کا اوسط دیکھا جائے تو یومیہ 160 کی تعداد میں موٹرسائیکل چھینی یا چوری ہوتی رہیں۔

Also Read: دودھ کی قیمت اورعوامی آراہ

 واضح رہے ماہ دسمبر میں موٹرسائیکلیں

چوری ہونے کی تعداد 3385 تھی جبکہ جنوری میں شہر بھر سے چوری ہونے والی موٹرسائیکلوں کی تعداد 3908 تھی جس سے واضع طور پر دکھا جاسکتا ہے کہ شہر بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی رٹ بحال رکھنے میں یقینی طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔

 اسی طرح اگر موبائل فون چھینے

یا چوری ہونے کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو فروری میں 2199 موبائل فون سے شہریوں کو محروم کر دیا گیا۔ گذشتہ ماہ اغواء برائے تاوان کو کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ بھتہ خوری کا ایک مقدمہ درج ہوا۔ اور شہر بھر میں قتل کی 34 کے قریب وارداتیں ہوئیں۔

سال 2020 میں جرائم، پاکستان میں بچوں کے ساتھ

مستقل طور پر مختلف غلط کاموں کے آٹھ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں. جب کہ کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ‘کرویل نمبرز 2020’ نامی نان لیجسلیٹو ایسوسی ایشن ساحل کی طرف سے تقسیم کیے گئے.

ایک جائزے میں پاکستان کے چاروں خطوں میں سے ہر ایک میں بچوں کے خلاف ہونے والے غلط کاموں کی صورت حال کو دیکھا گیا ہے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 کے

ایک سال میں ملک میں بچوں کے خلاف تفصیلی غلط کاموں کی تعداد 2960 تھی. جو 2019 کے اعداد و شمار سے 4 فیصد زیادہ ہے. اگر خوش قسمتی کے کچھ جھٹکے سے جنسی ڈبل ڈیلنگ میں توسیع کا 17٪

اگر آپ مقدمات کی باریکیوں پر ایک نظر ڈالیں، ساحل کے مطابق، 2020 میں، ایسے 89 کیسز سامنے آئے. جن میں حملہ سے بچ جانے والے. بچوں کی ریکارڈنگ بھی کی گئی. 2019 میں سامنے آنے والے کیسوں کی تعداد 70 تھی۔

پاکستان میںجرائم ،حمزہ جیسے بچوں کی ایک بڑی

تعداد مسلسل جنسی خلاف ورزیوں کا سامنا کرتی ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب کی ایڈمنسٹریٹر سارہ احمد نے بی بی سی کو بتایا. کہ اس نے حالیہ ایک سال کے دوران حملہ کے 250 واقعات درج کیے ہیں.

ایسے معاملات اندرون یا پڑوسیوں کی مدد سے لیے جاتے ہیں. اس نے کہا، “اس صورت میں کہ بچہ خود آب و ہوا میں جانے کی رضامندی نہیں دیتا ہے. یا عدالت پوری نہیں ہوتی ہے. اسے ایک نوجوان سیکورٹی فوکس میں رکھا جاتا ہے.

” اس نے کہا۔ ایک 10 سالہ نوجوان خاتون جو راولپنڈی سے دور لاہور کے ایک کڈ سیکیورٹی ہاؤس میں دیر سے دکھائی گئی تھی. اس کے سوتیلے باپ نے کافی عرصے تک تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایک جرائم 10 سالہ نوجوان خاتون جو راولپنڈی سے کچھ فاصلے پر لاہور کے ایک کڈ سیکیورٹی ہاؤس میں دیر سے دکھائی دی تھی، اس کے سوتیلے والد نے کافی عرصے تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ نوجوان خاتون کو اس کی ماں کی طرف سے اس کے حقیقی والد کے حوالے کر دیا گیا، جنہوں نے عدالت کو نوجوان خاتون کی مکمل کفالت اور حفاظت کی ضمانت دی

About admin

Check Also

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔

اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔ محمکہ پولیس میں کے ڈیپارٹمنٹ میں ابھی بھی ایسے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.